تحریر : سید قمر عباس قنبر نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی I حضرت خدیجہ الکبریٰ قبیلے قریش کی ایک انتہائی معزز، بااثر، دولت مند تاجر اور عالی نسب خاتون تھیں، آپ طاہرہ اور سیدۃ النساء القریش جیسے القابات سے مشہور تھیں یہ القاب خود آپ کی بلند سیرت اور عظمت کی عکاسی کرتے ہیں ۔
ملیکہ العرب حضرت خدیجہ اس عظیم الشان خاتون کا نام ہے جس نے امت محمدی کی فہرستِ نسواں میں سب سے پہلے دین و ایمان کا اظہار کیا۔ ملیکتہ العرب حضرت خدیجہؑ الکبریؑ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ مخلوقات ربّانی کی سب سے عظیم المرتبت شخصیت سرکار مرسلِ عالم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ و علیہ و آل وسلم کی پہلی شریک حیات یعنی بزمِ رسالت کی خاتونِ اول بنیں ۔ سرکار دوعالم ﷺ اور
ملیکتہ العرب کے عقد نکاح کا سبب بھی انتہائی دلچسپ اور سبق آمیز ہے واقعہ یوں ہے کہ پسرِ حضرت عبدااللہ (والد حضرت رسول اکرم ﷺ) بی بی خدیجہ کے تجارتی کاروبار میں شریک اور کئی مرتبہ سامان تجارت لےکر مختلف مقامات پر تشریف لے گئے، بی بی آپ ﷺ کی تاجرانہ حکمت، محنت، صداقت، دیانت اور اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ بی بی نے از خود نکاح کا پیغام بھجوایا، حضور اکرم نے پیشکش قبول فرمائی اور
شیعہ اور اہل سنت دونوں کی روایات کے مطابق حضرت ابو طالب ع نے ہی خطبہ نکاح پڑھا۔ حضرت خدیجہؑ وہ قابل فخر خاتون ہیں جنھوں نے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ
کی انسانی زندگی میں ہی نہیں بلکہ پیغمبرانہ حیات میں ہاتھ بٹانے کا مثالی حق ادا کیا، حضرت خدیجہ کو یہ شرف بھی نصیب ہوا کہ آپ کائنات کی سب سے عظیم بیٹی سیدۃ نساء العلمین اور سيدة نساء الجنة کی ماں بنیں، اور اپنی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ زوجہ امیر المومنین کے وسیلہ سے ایک ایسی پاکیزہ نسل کا سبب بنیں جس نے ہمیشہ اپنے خون سے گلشنِ اسلام کی آبیاری کی ہے ۔ یہی پاکیزہ نسل کفار و مشرکین کے طعنہ ابتر کا جواب بنی، دشمنانِ رسول اکرم کی نسلیں ختم ہو گئیں مگر بی بی خدیجہ کی بیٹی اور حضرت علی کی زوجہ کی نسل باقی ہے اور منشاء پروردگار سے صبح قیامت تک باقی رہے گی ۔
بی بی خدیجہؑ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ نے بی بیؑ کے اکرام و تعظیم کے باعث آپ حیات مبارکہ میں دوسرا عقد نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ عرب کی ایسی تاجر تھیں کہ سید التجار کہلاتی تھیں اور انہی کی منظوری سے پورے سال کے اصولِ تجارت طے ہوتے اور اشیاء کے قیمتیں معین ہوتی تھیں ۔ مگر اللہ رے ایثار خدیجہؑ ، انفاقِ خدیجہؑ کہ زوجیتِ رسول اکرمؐ میں آتے ہی اپنا تمام مال و دولت حضورؐ کے قدموں پر نچھاور کر دیا اور فرمایا اے اللہ کے رسولؐ میں آپ کی کنیز ہوں یہ سارا مال آپؐ کا ہے یہ گھر آپؐ کا ہے ۔ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرؓ کا بیان ہے کہ جب حضورؐ کی خدمت میں بی بی خدیجہؑ کا مال پیش کیا گیا تو اتنا مال تھا کہ ایک ایسی دیوار بن گئی ہے کہ اُس طرف کا ادھر نہیں دیکھ سکتا تھا اور اِدھر کا اُس طرف نہیں دیکھ رہا تھا خدیجہؑ نے اتنا سونا چاندی اشرفیاں حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ اور بی بیؑ نے ارشاد فرمایا آپؐ جس طرح چاہیں اس کو خرچ کریں چنانچے تاریخ اسلام گواہ ہے دینِ اسلام کے ابتدائی دور میں تبلیغِ دین پر سارا مال زوجہ مرسلِ اعظمؐ حضرت خدیجہ الکبریٰ کا ہی صرف ہوا ۔ پروردگار نے بھی اپنے محبوب نبیؐ کو غنی بنانے اور مالی مشکلات دور کرنے کے لیے بی بیؑ خدیجہ الکبریٰ کی بابرکت دولت کو وسیلہ بنایا ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ وَ وَجَدَكَ عَآىٕلًا فَاَغْنٰی ترجمہ "اور تم کو تنگ دست پاکر غنی نہیں بنایا"۔ (قرآن مجید، سورہ مبارکہ93 الضحیٰ ، آیت 8 )
ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسولؐ تمام عمر اپنی پہلی شریک حیات خدیجہؑ کی رفاقت کو یاد کرتے رہے جب بھی گوسفند ذبح کرتے خدیجہؑ کی سہلیوں کو ضرور بھیجواتے ، آپؐ جب بھی باہر جاتے یا باہر سے واپس آتے تو خدیجہؑ کو یاد کرتے ان کی تعریفیں کرتے۔ ایک دن اللہ کے رسولؐ خدیجہؑ کو یاد کر رہے تھے تو میں نے کہا آپ کب تک بوڑھی خدیجہؑ کو یاد کریں گے ۔ اللہ نے آپؐ کو ان سے آچھا ہمسر عطا کردیا۔ پیغمبر اکرمؐ عضب ناک ہوگئے اور عظمتِ ملیکتہ العرب حضرت خدیجہ الکبریٰؑ ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو خدیجہؑ کے برابر ہو سکتا ہے ۔ خدیجہؑ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب سب مجھے جھٹلارہے تھے، خدیجہؑ نے اُس وقت میری تصدیق کی جب لوگ میری تکزیب کر رہے تھے ۔ خدیجہؑ نے اُس وقت اپنے مال سے میری مدد کی جب مجھے غربت کا سامنا تھا ۔ جب کفار و مشرکین مجھے ابتر کے تانے دے رہے تھے تو پروردگار نے خدیجہؑ کے توسل سے مجھے فاطمہؑ الزھراؑ جیسی با عظمت بیٹی عطاکی اور خدیجہؑ کے زریعے نسل عطا کی ۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ کی یہ عظمتیں وہ رسولؐ ارشاد فرما رہیں تھے جنکے بیان کی ضمانت خود پروردگار یوں لے رہا ہے کہ یہ جو ہمارا رسول ہے یہ اپنی مرضی سے بات نہیں کرتا ۔ جو وحی کی صورت میں اِنؐ پر نازل ہوتا ہے وہی لفظوں کی صورت میں انؐ کی زبان سے ادا ہو جاتا ہے۔ اب ہم سب غور کریں کہ عظمتِ خدیجہؑ الکبریٰ کا اعلان کیا منشاء پروردگار کے بغیر ممکن تھا قطعاً نہیں بلکہ یہ پروردگار کی طرف سے یہ حکم تھا کہ رسولؐ آپ خدیجہؑ الکبریٰ کو یاد کرتے رہیں۔
بعثت کے دسویں سال ماہ مبارکہ رمضان کی 10 تاریخ کو مرسل اعظم کی یہ پر وقار، صالح، طاہرہ اور عظیم مجاہدہ زوجہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں رسول اکرمؐ بہت رنجیدہ ہوئے، آپؐ ہی نے بی بی خدیجہؑ کو قبر میں اتارا، قبر کو خود تیار کیا۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ مرسلِ اعظمؐ آپ کے غم میں ہمیشہ گریہ کرتے، اسی سال سرور کائنات ﷺ کے مربی، محسن اور ہمدرد چچا حضرت ابو طالبؑ بھی دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ اِن دونوں محبین
کی رحلت و رفاقت سے متاثر ہوکرمرسلِ اعظمؐ نے اِس سال کو "عام الحزن" قرار دیا۔ حضرت خدیجہ الکبری کی قبر اطہر مکہ مکرمہ کے مشہور قرستان جنت المعلیٰ میں ہے جو خانہ کعبہ کے شمال میں واقع ہے ۔









آپ کا تبصرہ